بار[1]
معنی
١ - گرانی، وزن، بوجھ، بھار۔ "اس کے خون کی قیمت سو بار شتر چھوہارا تھی۔" ( ١٩١٢ء، سیرۃ النبی، ٣٨٦:٢ ) ٢ - بوجھل پن، دباؤ (جو طبیعت وغیرہ پر بار ہو)۔ غرض ہو جو زہرہ پہ غصے کا دار نہ سنبھلے نزاکت سے سختی کا بار ( ١٩١٠ء، قاسم اور زہرہ، ٢١ ) ٣ - ذمہ داری، کفالت۔ "آپ صلہ رحم کرتے ہیں، مقروضوں کا بار اٹھاتے ہیں۔" ( ١٩١٢ء، سیرۃ النبی، ٣٠٦:٢ ) ٤ - قرض۔ "اس جائیداد پر بہت بار ہے۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٥٢٥:١ ) ٥ - مرتبہ، دفعہ، نوبت۔ "دنیا میں کروڑوں آدمی ہیں جو ایک ہی بار کھاتے ہیں۔" ( ١٩١٦ء، بازار حسن، ٧١ ) ٦ - پھل، ثمر جس کو لطف قرب رب دو جہانی مل گیا اس کو گویا بار نخل زندگانی مل گیا ( ١٩١١ء، نذر خدا، ٣١ ) ٧ - اسباب، سامان (لادا جانے والا)۔ "ان اونٹوں کا بار رستے میں پھینک دیا۔" ( ١٩٣٧ء، واقعات اظفری، ٧١ ) ٨ - گٹھڑی، بنڈل، گانٹھ، راس، کھیپ۔ "کوئلے اور دھات اسی طرح مسلسل ڈالتے جاتے ہیں، ہر بار ٣٠ من ڈھلی ہوئی کجدھات کا ہوتا ہے۔" ( ١٩٤٨ء، اشیائے تعمیر، ٢٣٣ ) ٩ - ناگواری، اندوہ، کلفت۔ "بارشدائد سفر اپنے اوپر زیادہ کرنا عقل و دانش سے دور ہے۔" ( ١٨٣٤ء، بستان حکمت، ٣٠٦ ) ١٠ - [ بطور مذکر، مؤنث ] دخل، رسائی، اجازت داخلہ، پیشی یا حاضری کا موقع۔ "ان لوگوں کو دربار نبوی کا نمونہ پیش نظر رکھنا چاہیے جہاں کافروں اور منافقوں تک کو بار ملتا تھا۔" ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ١٤٣:٣ ) ١ - لدا ہوا۔ "زربفت کے بوروں میں کچھڑی بھری ہوئی، ہزاروں ہاتھیوں پر بار۔" ( ١٨٩٠ء، فسانہ دلفریب، ٣١ ) ٢ - ناگوار، تکلیف دہ۔ اے چرخ کمال بار ہوں گا تجھ کو آہوں سے سزائے سخت دو گا تجھ کو ( ١٩١٧ء، رشید (پیارے صاحب)، رباعیات، ٦٨ ) ٣ - مشکل، دشوار۔ یومینا تو گوّال کی نار ہے اسے بھوند لیانا تو کیا بار ہے ( ١٦٣٥ء، میناستونتی (قدیم اردو، ١٣٠:١) )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں اصلی معنی اور اصلی حالت میں ہی بطور اسم اور گاہے بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٠٠ء میں "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گرانی، وزن، بوجھ، بھار۔ "اس کے خون کی قیمت سو بار شتر چھوہارا تھی۔" ( ١٩١٢ء، سیرۃ النبی، ٣٨٦:٢ ) ٣ - ذمہ داری، کفالت۔ "آپ صلہ رحم کرتے ہیں، مقروضوں کا بار اٹھاتے ہیں۔" ( ١٩١٢ء، سیرۃ النبی، ٣٠٦:٢ ) ٤ - قرض۔ "اس جائیداد پر بہت بار ہے۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٥٢٥:١ ) ٥ - مرتبہ، دفعہ، نوبت۔ "دنیا میں کروڑوں آدمی ہیں جو ایک ہی بار کھاتے ہیں۔" ( ١٩١٦ء، بازار حسن، ٧١ ) ٧ - اسباب، سامان (لادا جانے والا)۔ "ان اونٹوں کا بار رستے میں پھینک دیا۔" ( ١٩٣٧ء، واقعات اظفری، ٧١ ) ٨ - گٹھڑی، بنڈل، گانٹھ، راس، کھیپ۔ "کوئلے اور دھات اسی طرح مسلسل ڈالتے جاتے ہیں، ہر بار ٣٠ من ڈھلی ہوئی کجدھات کا ہوتا ہے۔" ( ١٩٤٨ء، اشیائے تعمیر، ٢٣٣ ) ٩ - ناگواری، اندوہ، کلفت۔ "بارشدائد سفر اپنے اوپر زیادہ کرنا عقل و دانش سے دور ہے۔" ( ١٨٣٤ء، بستان حکمت، ٣٠٦ ) ١٠ - [ بطور مذکر، مؤنث ] دخل، رسائی، اجازت داخلہ، پیشی یا حاضری کا موقع۔ "ان لوگوں کو دربار نبوی کا نمونہ پیش نظر رکھنا چاہیے جہاں کافروں اور منافقوں تک کو بار ملتا تھا۔" ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ١٤٣:٣ ) ١ - لدا ہوا۔ "زربفت کے بوروں میں کچھڑی بھری ہوئی، ہزاروں ہاتھیوں پر بار۔" ( ١٨٩٠ء، فسانہ دلفریب، ٣١ )